ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کانپور میں منعقدہ 2روزہ 27ویں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس میں مولانا رابع حسنی ندوی مسلسل چھٹی مرتبہ بورڈ کے صدر منتخب

کانپور میں منعقدہ 2روزہ 27ویں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اجلاس میں مولانا رابع حسنی ندوی مسلسل چھٹی مرتبہ بورڈ کے صدر منتخب

Mon, 22 Nov 2021 11:06:14    S.O. News Service

مولانا خالد سیف رحمانی جنرل سکریٹری اورمولانا ارشدمدنی نائب صدرسمیت نئے اراکین و عہدیداروں کا بھی عمل میں آیا انتخاب آیا

کانپور،22؍نومبر(ایس او نیوز؍راست) کانپور میں دو روزہ 27ویں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس کے دوسرے اورآخری دن 11نکات پر مشتمل تجاویز پیش کی گئیں جن میں گیان واپی مسجد اورشاہی عیدگاہ متھرا کے سلسلے میں فرقہ پرست عناصر خاص طورپر ہندو مہا سبھا کی جانب سے کی جارہی شرانگیزی، ماحول خراب کرنے کی کوشش اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی سازش کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اس موقع پر حکومت ہند کو متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ فرقہ پرست عناصر خاص طورپر ہندومہاسبھا کی شرانگیز کارروائیوں پر فوراً روک لگائے اور مذہبی مقدس مقامات کے تحفظ وملک کی فرقہ وارانہ  ہم آہنگی کو یقینی بنائیں -

قبل ازیں پہلے دن کے دوسرے سیشن میں ہفتہ کی رات مولانا رابع حسنی ندوی مسلسل چھٹی بار بورڈ کے صدر منتخب کئے گئے- اس میں بہار کے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری اور بورڈ کے نائب صدر کے طور پر جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر رہے شیعہ دانشور ڈاکٹر سید علی نقوی کو منتخب کیا گیا- اس کے علاوہ قومی ایگزیکٹیو اراکین میں صابر احمد، محمد یوسف علی، مفتی محمد عبیداللہ، مولانا بلال حسن، طاہر حکیم، فاطمہ مظفر، عطیہ اور ڈاکٹر نکہت پروین کو منتخب کیا گیا- ان سبھی کا انتخاب جنرل باڈی کے اراکین نے کیا-

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا رابع حسنی ندوی نے اپنے صدارتی خطاب میں موجودہ دور میں مسلم معاشرے کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ وہ آپسی اختلافات کو بھلاکر متحد ہوں اور موجودہ حالات کا سامنا کریں - کسی بھی ملک میں اقلیتی طبقے کو زیادہ فکر، توجہ اور محنت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے- یہ تب اور بڑھ جاتا ہے، جب اقلیتی معاشرے کو کمزور کرنے کی کوششیں حکومتوں کی طرف سے کی جا رہی ہوں - ان کے اس خطاب کے بعد تمام اراکین نے ان کی تائید کی-اس میٹنگ میں پورے ملک کے تقریباً 100سے زیادہ علمائے کرام نے شرکت کی- اس میٹنگ میں مسلم طبقے میں کیسے کم خرچ میں نکاح اور تعلیم کو بہتر کیا جائے اس پر تبادلہ خیال کیا گیا-

دو دنوں تک چلنے والی یہ میٹنگ ملک میں مسلم طبقے کی بہتری کے ایجنڈے طے کرے گی- کورونا بحران میں بورڈ کی میٹنگ آن لائن ہوئی تھی، لہٰذا بورڈ میں خالی ہوئے عہدے اور کئی اراکین کے انتقال کے بعد نئے اراکین کو شامل نہیں کیا جاسکا تھا- میٹنگ میں گجرات سے لے کر پانڈیچیری تک- مغربی بنگال سے لے کر مہاراشٹر تک کے بورڈ کے اراکین نے شرکت کی ہے-اس موقع پر متفقہ طورپر کانپور اعلامیہ بھی جاری کیا گیا- اس میں کہا گیا ہے کہ اسلام ہمیں صرف عبادت کا طریقہ نہیں بتاتا بلکہ پیدائش سے موت تک اورماں کی گود سے قبرکی گود تک پوری زندگی کیلئے رہنمائی کرتا ہے - پڑوسیوں سے تعلق کی بات ہو یا اہل وطن سے، شریعت اسلامی ہر مرحلے میں ہماری رہنمائی کرتی ہے - اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ہم خود شریعت پر قائم رہیں،غیراسلامی طریقوں اورشریعت کی منع کی ہوئی باتوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں، ہماری گھریلو اورخاندانی زندگی شریعت کے نور سے منورہو تو حکومت یا اورکوئی طاقت ہمیں اپنی شریعت پر کاربند رہنے سے روک نہیں سکتی اس کیلئے نہ ہم حکومت کے محتاج ہیں اورنہ ہی عدالت کے- اس لئے موجودہ حالات میں بہت ضروری ہے کہ ہم خود اپنے گھر، اپنے خاندان اور اپنے سماج کو شریعت کے سانچے میں ڈھال لیں تاکہ لوگوں کو نہ ہماری شریعت پر انگلی اٹھانے کی جرأت ہو اورنہ ہمیں اپنے دین کی حفاظت کیلئے کاسہئ گدائی لے کر حکومت کے سامنے جانا پڑے-

اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اختلافات فطری امر ہیں خواہ وہ دو خاندانوں کے درمیان ہوں یا پڑوسیوں کے درمیان -شوہر اوربیوی کے درمیان ہوں یا بھائی بہنوں کے درمیان ہوں ان کوحل کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مسلمان اللہ اور اس کے رسولؐ کے فیصلے راضی رہے - قرآن مجید کے فیصلے کے سامنے اپنا سر جھکادے اورآپس میں کسی کو ثالث اورحکم بناکر معاملات طے کریں - اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امت کی سب سے بڑی طاقت اس کیلئے اتحاد ہے -اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کی الگ الگ تنظیمیں، جماعتیں اور مختلف اعتقادی وفقہی مسالک ہیں ان کے طریقہئ کار اور فکروعقیدہ میں کچھ اختلافات بھی ہیں، لیکن زیادہ تر اختلاف رائے کی قبیل سے ہے -اس لئے ہمارا فریضہ ہے کہ ہم تحمل کا ثبوت دیں، رائے اور طریقہئ کار کے اختلافات کو برداشت کریں، اختلاف کے باوجود اتفاق کے ساتھ رہنا سیکھیں، امت کے درمیان جو مشترکہ مسائل ہیں ان کے حل کیلئے ہم کندھے سے کندھے ملاکر چلیں -اسی سے ہندوستان جیسے ملک میں ملت کا وجود اور بقاء متعلق ہے- اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا پاس ولحاظ رکھیں ایسی بات نہ کریں جو کسی گروہ کیلئے دل آزاری کا باعث ہو-انسانی بنیادوں پر بلاتفریق مذہب ایک دوسرے کے کام آئیں، مصیبت کے وقت ایک دوسرے کیلئے اٹھ کھڑے ہوں - ہمیں چاہئے کہ شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے خوشی اورغم میں اپنے ہمسائیوں کے کام آئیں -


Share: